کوہیما،13؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)ناگالینڈکے اوٹنگ گاؤں میں مسلح افواج کی جانب سے گولی مار کر ہلاک ہونے والے شہریوں کے اہل خانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ریاستی حکومت سے اس وقت تک مالی امداد نہیں لیں گے جب تک کہ موت کے پیچھے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔ایک خط میں اوٹنگ ولیج کونسل نے کہا کہ جب تک متاثرین کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) کو پورے شمال مشرق سے منسوخ نہیں کیا جاتا تب تک ایکس گریشیا رقم قبول نہیں کی جائے گی۔گاؤں کی کونسل نے کہا کہ وزیر پاؤانگ کونیاک اور مون کے ڈپٹی کمشنر 5 دسمبر کو ان کے سامنے 18,30,000 روپے کی رقم لے کر آئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ ریاستی حکومت کی طرف سے متاثرین کے خاندانوں کیلئے ایکس گریشیا کی ایک قسط ہے۔ مہلوکین کے افراد خاندان اور زخمی افراد نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ ویلیج کونسل اوٹنگ اور متاثرہ خاندان رقم تب تک وصول نہیں کرے گا جب تک کہ ہندوستانی آرم فورس کے 21 پیرا کمانڈوز کے مجرم کو سیول کوڈ آف لا اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (AFSPA)کے پورے شمال مشرق سے منسوخ ہونے سے پہلے انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔ناگالینڈ کی حکومت نے سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ زخمیوں کو ریاستی حکومت ایک لاکھ روپے دے گی۔ اس کے علاوہ مرکز نے مرنے والوں کے اہل خانہ کیلئے 11 لاکھ روپے ایکس گریشیا اور سرکاری نوکری کا بھی اعلان کیا ہے۔وہیں 4 دسمبر کو مون ضلع کے اوٹنگ گاؤں میں کوئلے کی کان کے چھ مزدور سکیورٹی فورسز کی طرف سے گھات لگا کر مارے گئے۔ اس کے بعد میں جھڑپیں ہوئیں، جس میں سات شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اتوار کی سہ پہر ایک ہجوم نے مون شہر میں آسام رائفلز کے کیمپ کے کچھ حصوں میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی جس کے دوران ایک اور شہری ہلاک ہو گیا۔